Saturday, February 16, 2013

قاتل نشہ




وقت کے ساتھ عداوت کا نشہ قاتل ہے 
جرم کے ساتھ محبت کا نشہ قاتل ہے 
عشق کی آتش دو نیم میں جلنے والو 
لمحہ بہ لمحہ قیامت کا نشہ قاتل ہے 

نشہ قاتل ہے نیے پھول جلا دینے کا 
نشہ قاتل ہے یوں ہی خون پلا دینے کا 
تو تو کہتی ہے ک بچھڑوں گی تو مر جاؤں گی 
نشہ قاتل ہی کسی شخص کو پا لینے کا 

محمد بھزاد